شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی
جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
